سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنز میں اضافہ

حکومت نے مہنگائی کے پیش نظر سرکاری ملازمین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا اعلان کر دیا۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2004-25 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں25 فیصد اور گریڈ 17 سے 22 تک کی تنخواہوں میں20 فیصد اضافہ کیا جاریا ہے۔

ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشنز میں 15 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے جب کہ کم از کم ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار کرنے کر دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود سرکاری ملازمین کی مشکلات کا احساس کیا مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی، پاکستان کو ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے اصلاحات سےکم شرح نمو کے چکر سے باہر نکالا جا سکےگا، معیشت کو حکومت کی بجائے مارکیٹ بنیاد پر چلنے والی بنایا جائےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے نئے پروگرام کی وجہ سے غیریقینی کیفیت تھی، آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر انتہائی مشکلات پیداکرسکتی تھی یہ وقت ہے کہ اپنی معیشت میں پرائیویٹ سیکٹر کو اہمیت دیں۔

امپورٹڈ گاڑیاں مہنگی

درآمدی لگژری گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور 50 ہزار ڈالر مالیت کی درآمد گاڑیوں پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تانبہ، کوئلہ، کاغذ، پلاسٹک پر ود ہولڈنگ ٹیکس

متعدد اشیا پر سیلز ٹیکس کا اسٹینڈرڈ ریٹ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تانبے، کوئلہ، کاغذ، پلاسٹک کے اسکریپ پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شیشے کی درآمدی مصںوعات پر ڈیوٹی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اسٹیل اور کاغذ کی مصںوعات کی درآمد پر ڈیوٹیز کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

موبائل فونز پر سیلز ٹیکس

بجٹ 2024 میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ، رعایتی شرح اور استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، موبائل فونز کی مختلف کیٹیگریز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگے گا۔

Comments





Source link

اپنا تبصرہ لکھیں