کیا دنیا جمہوریت کی پٹری سے اترتی نظر آ رہی ہے؟

ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ووٹرز کا انتخابات پر سے اعتماد متزلزل ہونے لگا ہے کیونکہ ان کی توقعات پوری نہیں ہو رہی ہیں۔

سال 2024 کو دنیا بھر میں انتخابات کا سال کہا گیا ہے کیونکہ 80 کے لگ بھگ ممالک میں عام انتخابات ہونے ہیں۔ نصف کے قریب سال گزر چکا ہے، کئی ممالک میں الیکشن ہوکر نئی حکومتوں کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا تاہم کئی ممالک جن میں امریکا، فرانس، یورپی یونین سمیت دیگر میں انتخابی عمل آئندہ چند ماہ میں ہونا ہے۔

تاہم امریکی خبر رساں ادارے اے پی نیوز  نے اس حوالے سے ہونے والے ایک نئی سروے رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ووٹر عدم اطمینان کا شکار اور ان کا موڈ خراب ہے کیونکہ ان کے ووٹوں سے بننے والی حکومتیں ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں کونسل آن فارن ریلیشنز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ بہت زیادہ غیر مطمئن ہیں جب کہ عدم اطمینان کی بہت سی وجوہات ہیں۔

دنیا میں جمہوریت کے حوالے سے ایک غیر سرکاری ادارے پیو نے گزشتہ سال فروری سے مئی کے دوران 30,861 لوگوں کو سروے میں شامل کیا جس میں 74 فیصد کے خیال میں سیاستدانوں کو پروا نہیں کہ ان جیسے لوگ کیا سوچتے ہیں جب کہ 42 فیصد نے کہا کہ کوئی سیاسی جماعت ان کے نقطہ نظر کی نمائندگی نہیں کرتی۔

پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے جاری کیے گئے سروے کے مطابق نمائندہ جمہوریت دنیا بھر میں حکمرانی کا ایک پسندیدہ نظام بنی ہوئی ہے، لیکن دنیا کے بیشتر حصوں میں انتخابات کے موقع پر اس کی اپیل ختم ہو رہی ہے۔

پیو سروے میں کہا گیا ہے کہ 8 ممالک میں 2017 کے بعد سے ایک ایسے “مضبوط لیڈر” کی حمایت میں اضافہ ہوا جو عدالت یا قانون سازی کی مداخلت کے بغیر فیصلے کر سکے۔

ان ممالک میں برازیل، جرمنی، میکسیکو، کینیا اور ارجنٹائن شامل تھے، جہاں جیویر میلی، ایک خود ساختہ “انارکو کیپٹلسٹ” جس کے حامی اسے “دی پاگل” کہتے ہیں، نے نومبر میں پیو سروے کا کام مکمل ہونے کے بعد ملک کا صدارتی انتخاب جیتا تھا۔

پول میں ایک مضبوط لیڈر کی حمایت میں میکسیکو میں سب سے زیادہ اضافہ پایا گیا، جہاں 2017 کے بعد سے اس میں 23 فیصد اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی میکسیکو ان تین ممالک میں سے ایک تھا جہاں جمہوریت کی حمایت میں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد برازیل اور پولینڈ دوسرے دو ممالک تھے۔

سروے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آمرانہ قیادت کی حمایت ان لوگوں میں سب سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے جن کی تعلیم اور آمدنی کم ہوتی ہے۔ غریب ممالک نے فوجی حکمرانی سمیت آمرانہ نظام کے حق میں رائے دی۔

 بھارت میں مودی کو دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والی جمہوریت کو ختم کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور پیو کے مطابق دنیا جمہوریت کی پٹری سے اترتی دکھائی دے رہی ہے، حالانکہ یہ دنیا بھر میں ترجیحی نظام حکومت رہا۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم تنظیم فریڈم ہاؤس، جو جمہوریت کو فروغ دیتی ہے کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جمہوری قدروں کو پرکھنے والا آزادی انڈیکس مسلسل 18 سالوں سے زوال کا شکار ہے۔ اس کی وجہ اس صدی کے آغاز سے کئی بحران ہیں۔ ان میں 11 ستمبر 2001، امریکا میں دہشت گردانہ حملے، 2008 کی عالمی کساد بازاری اور کورونا وائرس کی وبا شامل ہیں۔

Comments





Source link

اپنا تبصرہ لکھیں